میلہ تو میلہ ہوتا ہے ہر کسی کا دل کرتا ہے۔ذرا شغل میلہ کر لیں اسی لئے تو میلے کو میلہ کہتے ہیں۔تو جناب ایک دن فیس بک پر معلوم پڑا میلہ ہو رہا ہے۔لیکن منانے والے اکیلے اکیلے ہی میلہ لوٹنے کے چکر میں ہیں۔۔جو میلہ لوٹنا چاھتے ہیں وہ سارے کے سارے انگریجی والے ہیں۔بلال اور عبدالقدوس صاحبان بیچاروں نے تو ہم سے ووٹ ہی مانگا تھا۔،
من نہ بدلے تو تن کیا بدلے
اسلام علیکم اماں جی
وعلیکم اسلام
خیریت ٹھیک ٹھاک ہیں۔
اللہ کا شکر ہے۔
تو جی رہا ہے اس کا مطلب ہے ٹھیک ہی نہیں ٹھاک ٹھاک ہی ہو گا۔
جی بالکل بہت زیادہ ٹھاک ٹھاک ہوں۔۔۔۔ٹھاہ ۔۔۔۔الحمد اللہ
بلاگ کی تبدیلی
میرا بلاگ جو ورڈپریس کا مفتہ سروس ہے۔ان دنوں تنگ کر رہاتھا،کہ مزید مفتہ سروس کیلئے ہماری ڈیٹا سروس میں جگہ نہیں ہے۔
مجبوراً ہمارے چھوٹے بھائی مولوی خدائی فوجدار نے اسے ذاتی ڈومین پر منتقل کر دیا ہے۔
جس کا نیا اتہ پتہ بدل گیا ہے۔
جو ساتھی ہمارے بلاگ پر تشریف لاتے ہیں ان سے گذارش ہے کہ آئیندہ اس نئے پتہ پر تشریف لائیں
ہم اور ہمارے معاملات
حال ہی میں جاپان میں ایک پاکستانی کے ہاتھوں ان کی بیوی کا قتل ہوا۔سننے میں یہی آیا کہ گھریلو مسائل پر جھگڑا تھا۔جس پر یہ دردناک واقعہ رونما ہوا۔ ہم پاکستانی اسی کی دھائی میں جاپان آنا شروع ہوئے۔کوشش سب کی یہی تھی کہ کسی نا کسی طریقہ سے یہاں کا مستقل ویزہ حاصل کیا جائے۔
سب سے آسان طریقہ یہی تھا کہ جاپان میں جاپانی خواتین سے شادی کرلی جائے۔جاپانی زیادہ تر کورے کاغذ کی طرح ہوتے ہیں۔شادی بیاہ چرچ میں جا کر کر لیتے ہیں تو امواتی تقریبات بدھ مذہب کے طریقے کے مطابق کی جاتی ہیں۔ہمارے ایک جاننے والے عیسائی کی میت کو جلایا گیا اور ان کے آبائی قبرستان میں انکی خاک اور ھڈیاں دفنائی گئیں۔
جاپان میں کرسمس بھی نہایت زور شور اور دھوم دھام سے منائی جاتی ہے۔
کرسمس کومذہبی تہوار کے طور پر نہیں،صرف ایک معاشی تہوار یا میلہ سمجھ کر منایا جاتاہے۔کہنے کا مقصد یہ ہے کہ جاپانی مذہب کے معاملے میں اعتدال پسند واقع ہوئے ہیں۔اگر کسی کے ساتھ انسانیت کی بنیاد پر تعلقات ہیں تو کسی کے عقیدہ کو برا نہیں سمجھتے، کسی غیر ملکی سے شادی کرنے کی صورت میں اپنے شوہر یا بیوی کا مذہب اختیار کرلیتے ہیں۔
جاپانی اپنے آپ سے جھوٹ نہیں بولتے اس لئے ان کی کوشش ہوتی ہے،کہ اپنے ساتھی کا مذہب اختیار کرنے یا اپنے ساتھی کے ساتھ زندگی گذارنے کیلئے ساتھی کے ساتھ ہر طرح کا تعاون کیا جائے۔اور زندگی اچھے طریقے سے گذاری جائے۔
ہم مسلمانوں نے یہاں پر شادی کے وقت جاپانی خواتین کو کلمہ پڑھا کر مسلمان کیا اور شادی کر لی۔مقصد ویزا تھا اور لگے ہاتھوں آخرت کو بھی سنوارنے کا خیال تھا۔اتنا ہم سب کو علم تھا کہ غیر مسلم یا اہل کتاب کے علاوہ سے ہماری شادی نہیں ہو سکتی۔
ہم مسلمانوں کا جاپان آنے کا مقصد روزگار تھا۔اپنے ملک میں چھوڑ کر آنے والے گھر والوں کو سپورٹ کرنا مقصد تھا۔شادی کے بعد سب مستقل بنیادوں پر جاپان میں بس گئے۔ظاہر ہے زیادہ تر اپنے ممالک کے غریب گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔اگر میں اپنے آپ اور اپنے گھر کو دیکھوں تو ایک غریب گھرانے سے تعلق تھا۔دینی ،دینوی تعلیم و تربیت کوئی خاص نہیں تھی۔جو کچھ سکول یا مسجد کے امام صاحب سے سن کر سیکھا تھا وہ ہی اپنی تعلیم اور تربیت ہے۔
جاپانی خواتین و حضرات سے شادی کے رشتے میں منسلک ہونے والے زیادہ تر مسلمان روزگار میں مصروف ہوگئے۔کچھ لوگ معاشی طور پر مضبوط ہوگئے تو کئی مسائل حل ہوگئے۔جن حضرات کے معاشی حالت ٹھیک بہتر یا بہت اچھے نہیں ہوئے۔ ان کے گھریلو مسائل میں اضافہ ہوتا گیا۔
جاپان میں اولاد ہوگئی اور پاکستان کے خاندان کی طرف سے مسلسل ضروری و غیر ضروری اخراجات کا تقاضہ چلتا رہا۔اس سے جو سب سے برا اثر گھرانے پر پڑا وہ گھر میں معاشی مسائل کا بڑھنا تھا۔جس سے جاپانی اہل و عیال تنگ دستی کا شکار ہوگئے۔ اس تنگ دستی کی وجہ سے گھریلو جھگڑے ہونا شروع ہوئے اور مذہب صرف علامت ،۔۔یا۔۔۔۔۔ ملکی یا ذاتی پہچان تک محدود رہ گیا۔
جاپان مشرق میں ہونے کے باوجود ایک مکمل مغربی معاشرہ ہے۔لبرل یا سیکولر معاشرہ ہے۔اس معاشرے میں اولاد کی پرورش پاکستانیت یا مسلمانیت پر کرنا انتہائی مشکل ہے۔بنیادی اسلامی تعلیم دینے کے باوجود ماحول نا ہونے کی وجہ سے ان دینی تعلیمات کی بنیادیں مضبوط کرنا انتہائی کٹھن ہے۔
اولاد کے بڑھے ہونے کے ساتھ ساتھ ہم مسلمان کیلئے تکلیف دہ اور ناقابل برداشت مسائل سامنے آنا شروع ہو جاتے ہیں۔گھریلو لڑائی جھگڑے اور معاشی مسائل سے بچوں کے ذہن بھی بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔ جو ایک دو کشتیوں پہ سوار گھرانے کو الجھن زدہ دلدل میں دھکیل دیتے ہیں۔
جاپان میں اس وقت تقریبا مسلمانوں کی اکثریت والے علاقوں میں مساجد موجود ہیں۔لیکن ان مساجد میں بہت ہی کم جگہوں پر جاپانی جاننے والے علما یا امام حضرات موجود ہیں۔زیادہ تر مساجد میں وہی مسلکی اور فروعی مسائل کا معاملہ دیکھنے میں آتا ہے۔
اس دفعہ اس قتل کے سانحہ کے بعد جو معاملہ دیکھنے میں آیا کہ مقتولہ جو کہ مسلمان کی بیوی تھیں ان کی آخری رسومات بدھ مذہب کے مطابق ہوئیں۔ ان رسومات میں قاتل اور مقتولہ کے چودہ اور سولہ سالہ بچے بھی شامل ہوئے۔اور وارثین کی شدید خواہش کے مطابق یہ آخری رسومات ادا ہوئیں۔
قاتل جیل میں ہیں۔یہاں کے مسلمانوں نے بہت کوشش کی کہ مقتولہ کی آخری رسومات اسلامی طریقے ادا کی جائیں لیکن ان مسلمانوں کے مطالبے کو سختی سے مسترد کر دیا گیا۔
اور کہا گیا کہ ہماری ماں بہن بیٹی کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا اور اب اس کی میت بھی ہم سے چھین لینا چاھتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایسے معاملات پر جب ہم مسلمانوں کی مسلمانیت جاگتی ہے۔اور جس شدید قسم کے مذہبی جذبات کا اظہار ہم لوگ کرتے ہیں۔ یہی مذہبی جذبات اگر ہم اپنی معاشرت اپنے معاملات میں اختیار کریں تو میرے خیال میں کم ازکم ایک عشرے میں آدھے سے زیادہ جاپان مسلمان ہو جائے گا۔ اور ہمارا پاکستان سارے کا سارا مسلمان ہو جائے گا۔
اگر ان مقتولہ اوران کے بچوں کی تربیت اسلامی طریقے کے مطابق ہوتی تو میرا خیال ہے کہ ان مقتولہ کی آخری رسومات بدھ مذہب کے طریقے سے ادا نہیں ہوتیں۔
جاپانی نومسلم اور ان کے بچوں کو اسلامی تعلیم دینا، ان کے زندگی کے ساتھی کا فرض بنتا ہے۔اور اس کے بعد ان سے معاملات کرنے جاپان میں مقیم مسلمانوں کا بھی فرض ہے۔ اور پاکستان یا دوسرے مسلم ملک میں جاپان سے بھیجی گئی رقم سے زندگی گذارنے والے ان کے خاندان والوں کا فرض بنتا ہے۔
اگر ہمارے ممالک میں امن وامان ہو اور ہم اپنے جاپانی بیوی بچوں کو اپنے آبائی ممالک میں بسا سکتے ہوں تو پھر بھی ہمارے بہت سارے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔لیکن ان جاپانی بیوی بچوں کو ہمارے آبائی ممالک میں زیادہ خطرہ محسوس ہوتا ہے۔ہمارے پاس کوئی ضمانت نہیں ہے کہ جاپان مال کی لالچ میں انہیں اغوا نہیں کیا جائے گا۔انہیں دھوکہ نہیں دیا جائے گا۔
جو مسلمان معاشی طور پر مظبوط ہیں انہوں نے اپنے جاپانی بیوی بچوں کو دبئی میں بسا رکھا ہے۔لیکن بیچارے وہاں پر بھی پریشان ہی ہیں۔۔۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہم مسلمانوں کے حال پر رحم فرمائے اور ہمیں اپنے حال پر رحم کرنے کا احساس عطا فرمائے۔۔آمین
وحشی قلب
فطرت کے اصل لحاظ سے انسانی قلوب وحشت پسند واقع ہوئے ہیں۔ کہیں پڑھا تھا کہ لوگوں کے دل صحرائی جانور کی طرح ہوتے ہیں،جو ان کو سدھائے گا اس کی طرف جھکیں گے۔
اس صحرائی جانور کے دل کو انسانیت کے نام پر یا مذہب کے نام پر سدھا کر اس میں انس و محبت کا ایک اکتسابی جذبہ پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اور اسے معاشرے کی دوڑ میں شامل کر لیا جاتا ہے۔ اور معاشرے کو اپنے عقائد ونظریات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
سکول مدرسہ کالج یونیورسٹی یہ سب ادارے اس جانور کے دل کو سدھانے کیلئے ہی ہیں۔کہ سدھر کر اکثریت کے عقائد ونظریات پر قائم معاشرے کا حصہ بن جائے۔
انس ومحبت کا جذبہ اکتسابی جذبہ ہے ۔ جب انس و محبت کے دواعی اسباب ختم ہو جاتے ہیں یا بعض وجوہات سے نفرت کے جذبات میں بدل جاتے ہیں تو قلوب انسانی وحشت کی طرف پلٹ جاتے ہیں۔اور پھر بڑی مشکل سے محبت کی راہ پر گامزن ہوتے ہیں۔
اس سدھائے ہوئے وحشی قلب کے جانور کی عزت نفس یا وقار پر حملہ کیا جائے تو دوبارہ وحشت کی طرف پلٹ جاتا ہے۔جب معاشرہ انتشار کا شکار ہوتا ہے ،جرائم قتل و غارت عام ہو جاتی ہے۔
ہر طرف آپا دھاپی نفسا نفسی کا دور عام ہوجاتا ہے تو صرف وحشت کا نظام جاری ہو جاتا ہے۔ اکتسابی جذبہ
چاھے مذہبی ہو ،اخلاقی ہو ، انسانی ہو، یا معاشرتی یا معاشی سب کچھ اس وحشت کا شکار ہوجاتا ہے۔
اس معاشرتی زندگی میں وحشی قلب کی انفرادی ذات صرف فریب ہے۔ انفرادی طور پر ہم سب قانون یا مذہب اور سلسلہ اسباب کے بہت بڑے دھارے کا ایک جزو ہیں۔
یا خدا ئے واحد کا جزو ہیں۔ ایسے بھی سوچا جا سکتا ہے کہ ہم ایک ایسے وجود کی آنی و فانی اشکال ہیں۔جو ہم سب سے عظیم تر ہے۔ہم فانی اور متناہی ہیں وہ ابدی اور لامتناہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس وحشی قلب کو اگر خدائے واحد بصیرت عطا کردے تو یہ گرم رفتار رہتا ہے اگر جہالت میں مبتلا کردے تو اسباب خارجی سے متاثر ہوکر پریشان رہتا ہے۔اور سچا ذہنی سکون و آسودگی اسے نصیب نہیں ہوتی۔ جذبات کی شورش ختم ہوتے ہی یہ جاہل خود بھی ختم ہو جاتا ہے۔
اور جسے بصیرت عطا کی جاتی ہے۔ وہ روحانی اور ذہنی کوفت میں مبتلا نہیں ہوتا۔ اس کا تعقل اور بصیرت ہمیشہ قائم رہتی ہے۔اور وہ سکون قلب کی نعمت سے مالامال رہتا ہے۔
ہمارا تجربہ ہے کہ اس اکتسابی معاشرے میں وحشی قلب کی دو قسمیں پائی جاتی ہیں۔ ایک جو اپنے آپ کو باعزت اور باوقار سمجھتا ہے۔اگر اس کا وقار مجروح ہوتو یک دم وحشت کی طرف پلٹ جاتا ہے اور سب کچھ تہس نہس کرنے پہ تل جاتا ہے۔
دوسرا ذلیل و کم ظرف ہوتا ہے۔اگر اسے اس کی حثیت سے بڑھ کر عزت دی جائے تو الٹے مٹکے کی طرح اندر کا سب کچھ باہر پھینک دیتا ہے۔اور دوسروں کی تذلیل پہ تل جاتا ہے۔
دونوں میں ایک ہی شے مشترک ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وحشت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بے چین دل
ہر طرف نفرت ،نفرت ،بغض ،بغض،۔۔۔۔ایک جاپانی دوست جو اسلام میں دلچسپی لے رہے ہیں۔انہوں نے سوالات کر کر کے پاگل کردیا۔
پورا ماہ رمضان ان کے سوالات بعض دین کی سوجھ بوجھ رکھنے والے دوستوں سے پوچھ پوچھ کر محتاط طریقے سے دیتا رہا۔مختلف مساجد کا رابطہ نمبر دیا۔جو جاپانی مسلمان جاننے والے ہیں ان سے رابطہ کر وانے کی کوشش کی۔۔۔۔۔۔
لیکن خدا کی قسم بد نام کر دیا اسلام کو اس فرقہ پرستی نے جو پیدائشی مسلمان اور سادہ لوح ہیں وہ بھی اس فرقہ پرستی کی وجہ سے دین بیزار ہو جاتے ہیں۔جو دوسرے کی ورایٹی کا نہیں وہ گمراہ ہے۔چاھے بیچارہ اپنے وقت کا کتنا ہی بڑا دین کیلئے قربانیاں دینے والا گذرا ہو۔اپنی ورائٹی کا نہیں تو ناپسندیدہ
اپنا بندہ ہے تو جو دل میں آئے کرے بے شک اسلام کو نقصان ہی کیوں نا پہونچے۔۔اسلام کا نقصان؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جو لوگ بت پرستی میں مبتلا ہیں۔وہ بھی ان فرقہ پرستوں کی وجہ سے اپنے حال پر خوش رہنا پسند کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس دوست کو کہا کہ چلو کس مسجد کے امام صاحب کے پاس جاتے ہیں ۔جو کچھ پوچھناہے پوچھو اور میں ترجمہ کر دوں گا۔
ان کا کہنا ہے سب طرف سے ہو کر آگیا۔کچھ اطمینان نہیں ہوا۔ ہو سکتا ہے ان جاپانی صاحب کے ساتھ کوئی نفسیاتی مسئلہ ہو لیکن۔۔۔۔۔۔۔ان کی باتیں میرے جیسے کم علم ، کم فہم کو شرمندہ کر دیتی ہیں۔چن چن کے فرقہ پرستی کی سوالات کرتے ہیں۔تنگ آکر کہہ دیا بھائی جو دل میں آئے کریں۔میرا تو کوئی فرقہ مسلک نہیں۔۔۔۔۔۔
آپ کا دل کرتا ہے تو اسلام قبول کر لیں۔۔مسلمانوں سے اطمینان نہیں تو مسلمان کو قبول نہ کریں .۔۔۔۔۔ان سے تو جان چھوٹ گئی لیکن کیا کروں اس دل کا پھٹا جارہا۔۔۔بے سکونی ،بے چینی ، بیقراری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ذہن میں یہی سوچ آتی ہے کہ کیا میں مسلمان ہوں؟
قرآن اور حدیث پڑھتے ہیں تو کچھ اور نظر آتا ہے۔۔قابل عزت علما کرام کو دیکھتے سنتے پڑھتے ہیں تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نا ختم ہونے والی جستجو دل میں پیدا ہوتی ہے۔ ایک عالم صاحب کو سنتے ہیں تو عقیدت محسوس ہوتی ہے کہ یہ کتنی پیاری باتیں کرتے ہیں۔دوسرے عالم صاحب بھی پیاری پیاری باتیں کر رہے ہوتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے۔پہلے والے عالم صاحب تو گمراہ ہیں۔۔۔۔۔۔دونوں اچھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن مسلک کی وجہ سے دونوں ایک دوسرے کی نظر میں گمراہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے تو دونوں عالم حضرات اچھے لگتے ہیں۔مسلکی تفاوت ،بحث مباحثہ ، اس کم فہم کو بیزار کر دیتا ہے۔ یہ بیزار مسلمان کسی غیر مسلم کو اسلام کی دعوت دینے کا فرض کیسے پورا کرے گا؟
اللہ تعالی سے ہی مدد مانگتا ہوں کہ مجھے سکون دے۔۔۔۔۔آمین
دیوالیہ
سبز پاسپورٹ چھوڑ کر جب لال پاسپورٹ سے سفر کرتے ہیں تو دل میں کسک سی اٹھتی ہے۔خلش۔۔۔۔۔۔۔۔دل کے خالی پن۔۔۔۔۔کا احساس بیچین سا کردیتا ہے۔
نیوزی لینڈ کے ائیر پورٹ پر امیگریشن والے نے پاسپورٹ لینے کے بعد بار بار پوچھا کہاں کا ہے؟۔بار بار کہا پاکستانی ہوں۔بالکل احساس نہیں ہوا کہ اس کے ہاتھ میں جاپانی پاسپورٹ دیا ہے۔ آفیسر کے کہنے پر بی لائن میں چلا گیا تو دیکھا رشین عوام کی لائن لگی ہے۔
دوبارہ امیگریشن آفیسر نے پوچھا کہاں کا ہے اور رشیا کے اتنے سارے ویزے کیوں ہیں تیرے پاسپورٹ پر؟تھکاوٹ سے شاید سمجھنے بوجھنے والے تمام آلات کام نہیں کررہے تھے۔ تنگ آکر غصے سے کہا تجھے کیا تکلیف ہے؟ اور رشین میں ایک عدد تبرا بھیج دیا۔
آفیسر نے ہنس کر کہا تھا کہ اب معلوم ہو گیا آپ پاکستانی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سر
ابھی تک کبھی کبھی شرمندگی محسوس کرتا ہوں۔کہ اخلاقی تباہ حالی نے بد اخلاقی کو پہچان بنا دیا۔۔۔۔۔۔۔
یہاں جاپان کے ایک مشہور کامیڈین اور ٹی وی سٹار ہیں شی مادا شن سکے،یہ میرے بھی پسندیدہ شخص ہیں۔ ان کی گفتگو سے ہی بندہ ہنس ہنس کے دوہرا ہوجاتا ہے۔
اس کے علاوہ یہ نہایت ہی علم والے بھی ہیں۔ ان کےٹاک شو وغیرہ نہایت دلچسپ ہوتے ہیں۔ان دنوں اچانک انہوں نے پریس کانفرنس کی اور ریٹائر منٹ کا اعلان کر دیا۔پچپن سال کی جوانی میں ریٹائر منٹ سب کیلئے حیرت انگیزتھی۔ جاپانی پچپن سالہ خواتیں و حضرات ابھی صرف جوان ہی ہوتے ہیں۔ یہی عمر کام کرنے کی اور شادی بیاہ (کچھ لمبی چھوڑ دی)کی سمجھی جاتی۔
جب ان صاحب کی ریٹائر منٹ کی وجہ معلوم ہوئی تو سب کو اطمینان ہو گیا۔اور سب نے کہا بالکل ٹھیک کیا اور بعض نے تو غصے سے کہا کہ یہ اتنے دن خاموش کیوں رہا؟
اس جاپانی قوم کی عقل کا ماتم کریں۔کہ اور دیکھیں جو بات ہمارے معاشرے میں عام ہے۔ہمارے سیاستدان جو زبان استعمال کرتے ہیں۔وہ زبان اگر جاپان کا سیاستدان کوئی وزیر یا حکمران استعمال کرے تو پورے جاپان میں بھونچال آجائے۔
ان صاحب کے کچھ دوستانہ تعلقات تھے جاپان کی مافیا کے ساتھ اور اس بات پر ان جاپانی مسخرے صاحب نے ٹی وی پر آنا چھوڑ دیا۔اگر خود سے ریٹائر منٹ کا اعلان نا کرتے تو ٹی وی والے ہی انہیں نشر نا کرتے ۔نشر کرتے تو عوام ٹی وی کا حشر کردیتے۔
اور پاکستانی سیاستدان کہتے ہیں مجرموں کو چوراہے میں لٹکا دیا جائے گا۔ اپنی ہی عوام کو پرانا لٹیرا مہاجر بھوکا ننگا کہتا ہے۔ جو کسی بھی تہذیب یافتہ معاشرے میں ناقابل معافی الفاظ ہیں۔جب لیڈروں کی اخلاقی حالت ایسی ہوگی تو عوام کیوں نا طاقت کا استعمال کریں گے؟
کن ٹٹّے ،بدمعاش ،دھشت گرد تو ہماری سیاسی جماعتوں کے سود مند کارکن ہوتے ہیں۔کراچی کے موجود حالات میں حکمرانوں کا پیغام عام ہوا کہ بھتہ خور جلد ازجلد کراچی چھوڑ دیں۔ جب دوبارہ فکری خفیہ میٹنگ ہوئی تو معلوم ہوا کہ یہ بھتہ خور ،دھشت گرد کراچی سے نکل گئے تو کراچی میں سیاست کون کرے گا؟۔
مجبوراً حکومت پاکستان نے اپنے حکم نامے میں اصلاح کی اور فرمایا کہ بھتہ خور بھتہ لینا چھوڑ دیں!!!!۔ واہ واہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ منہ سے بلا ارادہ نکل گیا!!۔ بھتہ کے بدلے میں امریکی امداد میں سے ان کیلئے خفیہ فنڈ کا بندوبست کر دیا جائے گا۔ جس قوم کے اخلاقیات کا دیوالیہ نکل گیا ہو اور انہیں احساس بھی نہ ہو کہ وہ کیا بک رہے ہیں اور کیا کر رہے ہیں۔ ایسی قوم کی بہتری کی امید کرنا بیوقوفی ہے۔
دیس سے دوری کا احساس اس وقت نعمت محسوس ہوتا ہے۔جب جاپانی قوم کی اخلاقیات دل میں دھڑکن کی طرح محسوس کرتے ہیں اور اپنوں کے اخلاق کا دیوالیہ گھر کی محرومیت کا احساس ختم کر دیتا ہے۔
امن وامان اور دماغ کنٹرول
ہر رمضان میں ہمارے ہاں جاپان میں سحری و افطاری کا بندوبست کیا جاتا ہے۔تقریباً ساٹھ ستر بندہ ان دو اوقات میں جمع ہوتا ہے۔میں نے آج دن تک مسجد میں کبھی بھی کھانا نہیں کھایا۔وجہ صرف یہی ہے کہ مسجد میں کھانا پکانے سے مسجد کی صفائی کا خیال نہیں رکھا جاتا۔عموماً بچا کھچا کھانا اور ھڈیاں بکھری ہوئی ہوتی ہیں۔ وضو والی جگہ پر پان پراگ کی لالیاں ، پیاز ،لہسن ، ادرک ،ٹماٹر ، گوشت کے چھیچھڑے اور مصالحہ جات کی بو آرہی ہوتی ہے۔ ،
شروع میں کچھ دن صبح فجر کے بعد صفائی کی لیکن پھر سوچا رمضان کے بعد ہی صفائی کریں گے۔ایک دن ظہر کی نماز کے وقت گیا تو وضو کی جگہ سے بد بو آرہی تھی اور ہمارے نوجوان امام صاحب صفائی کر رہے تھے۔دیکھ کر خوشی ہوئی کہ امام صاحب صرف منبر پر بیٹھ کر درس ہی نہیں دیتے عمل بھی کرتے ہیں۔لیکن جیسا کہ ہمارا مزاج ہے کہ امام صاحب اگر صفائی ستھرائی کا کام کریں تو شرم سی محسوس ہوتی ہے۔
کچھ میں نے بھی ایسا ہی محسوس کیا اور خدمت کمیٹی سے غلطی سے کہہ دیا کہ اگر کھانا پکانا کرتے ہیں تو صفائی بھی کر دیا کریں۔خدمت کمیٹی والے تقریباً سارے ہی اچھے اور سمجھدار ہیں۔جن سے کہا انہوں نے معذرت کی اور آئیندہ خیال رکھنےکا کہا۔
سب کو علم بھی ہے کہ میں مسجد میں کھانے پکانے کے حق میں نہیں لیکن کبھی ان حضرات کو اس عمل سےمنع بھی نہیں کیا کہ یہ ایک طرح کمیونٹی کے میل جول میں فائدہ مند عمل بھی ہے۔ مسجد میں سب کے جمع ہونے سے کچھ نا کچھ سب کیلئے اچھا ہی ہے۔کہ جاپان میں کئی الٹی سیدھی جگہ پر جمع ہوا جا سکتا ہے۔
تین چار دن بعد ظہر کے نماز کیلئے وضو کر رہا تھا۔کہ ایک نے اونچی آواز میں کسی کو مخاطب کئے بغیر کہا کہ میں نے صبح صفائی کردی تھی۔ کسی الو کے پٹھے کو بد بو آرہی ہو تو مجھ سےرابطہ کرے۔ میں سمجھ گیا کہ یہ صاحب مجھے کہہ رہے ہیں۔
ایک رمضان اور بہت سارے افراد کی موجودگی کی وجہ سے میں خاموش ہو گیا۔نماز کے بعد ان صاحب کو دیکھنے کی کوشش کی لیکن وہ سنتیں پڑھے بغیر غائب ہوگئے تھے۔بحرحال ایک دو افراد سے ان کا نمبر مانگا لیکن کسی نے نمبر نہیں دیا اور منت سماجت کردی۔
کوشش کرکے نمبر حاصل کر لیا اور ان صاحب سے عرض کیا کہ جناب الو کا پٹھہ بول رہا ہوں۔مجھ سے بد بو کا حال احوال پوچھ لیں۔ابھی اکیلے میں مل لیں نہیں تو رمضان کے بعد مسجد میں ہی ملاقات ہو جائے گی۔ اتنا کہہ کر میں نے فون بند کردیا۔
بحرحال ایسے بد اخلاق حضرات عموماً بھاگ دوڑ کرکے سفارشی ڈال کر معافی شافی مانگ کر معاملہ صاف کروا لیتے ہیں۔اور ہم بھی ایک دن بعد غصہ بھول جاتے ہیں۔ اس کےعلاوہ ایک ڈر بھی ہوتا ہے۔ مار کھانے کے معاملے میں تو خیر ڈھیٹ ہیں۔مارکھانے سے کیا ڈرنا۔ روٹی کھا لی مار کھا لی ایک برابر!!۔
لیکن یہاں جاپان میں اگر بندہ کسی کو کچھ سخت دست شفقت لگا دے تو بڑا پنگا ہوتا ہے۔
اسی طرح ایک دن ہم دوسرے صوبے سےگھر واپس آرہے تھے کہ رات کا وقت تھا۔اور کافی تھکاوٹ بھی تھی۔میرا جہاں تک خیال ہے میں غلط ڈرائیونگ کر رہا تھا۔ کبھی گاڑی کی رفتار زیادہ اور کبھی کم ہو جاتی تھی۔اور ہمارے پیچھے ٹرک آرہا تھا۔ جس کا ہمیں بالکل کوئی احساس نہیں تھا۔ ٹرک والے نے پہلے تو ہمارے اوپر گاڑی چڑھا کر چلائی کہ یہاں کے ڈرائیور انتہائی ضرورت کے علاوہ ہارن نہیں بجاتے۔گاڑیوں کی لائنیں لگی ہوں گی لیکن پی پاں بالکل نہیں ہوتی۔
پھر اس بیچارے نے ڈیپ لائٹ بھی ماری لیکن ہم مست تھے اور کوئی احساس نہیں ہوا۔آخر تنگ آکر اس بیچارے نے ہارن دیا اور ہم ڈر کر جاگ گئے۔لیکن اتنی دیر میں ٹرک ڈرائیور کا پارہ چڑھ چکا تھا۔ ہم نے گاڑی سائیڈ پر کرکے ٹرک والے کو رستہ دیا۔لیکن وہ بیچارہ غصے سے پاگل ہو رہا تھا۔
اس نے ہمارے آگے گاڑی لگائی اور بیچ سڑک میں ہماری گاڑی روک لی۔
اور گالیاں دیتا ہوا۔ٹرک سے اتر کر ہماری طرف آیا۔رات کا وقت تھا۔اگر دن ہوتا تو بیچارہ غیر ملکی کو دیکھ کر کنی کترا جاتا۔ یقین مانئے میرا کوئی لڑائی کا ارادہ نہیں تھا۔بلکہ میں نیچے اترا کہ ان صاحب سے معافی ہی مانگ لوں۔ لیکن ٹرک ڈرائیور صاحب قد آور اور کافی موٹے تازے تھے۔ انہوں نے آتے ہی جھانپڑ مارنے کی کوشش کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور ہمارا گھٹنا آگے نکل گیا۔شاید تھوڑا گھوما بھی دیا تھا۔میں پھر ایک دفعہ کہنا چاہوں گا کہ یقین مانئے میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ اس کے بعد پہلے میں نے اینمولینس منگوائی اور اینمبولینس والوں نے پولیس منگوائی۔
پولیس والوں نے دیکھا بھی کہ ٹرک نے ہماری گاڑی روکی ہوئی ہے۔لیکن ڈرائیور صاحب کو اسپتال اور ہمیں تھانے لے گئے۔قصہ مختصر کہ راضی نامہ ہوا۔پاکستانی مبلغ پانچ لاکھ ادا کیا معافی بھی مانگی۔اور ڈرائیور نے بھی ہم سے معافی مانگی کہ انہیں غصہ آگیا تھا۔
اس کے بعد کتنا بھی غصہ آئے لیکن ایک بار ضرور پانچ لاکھ یاد آتے ہیں اور دھینگا مشتی سے ڈر لگتا ہے۔نا چاھتے ہوئے بھی غصہ پینا پڑتا ہے اور برداشت کرنا ہی پڑتا ہے۔ یہاں کے بد معاش بھی جب تک ان کے آگے کوئی پھنسے نا تو یہ کسی کو تنگ نہیں کرتے۔اپنے اپنے مخصوص علاقوں میں مخصوص انداز کا دھندہ کرتے ہیں۔اگر آپ کوئی کاروبار کر رہے ہیں تو یہ آپ کے پاس بھتہ لینے نہیں آئیں گے۔
اگر آئے تو پولیس کو بلایا جا سکتا ہے۔بعض مخصوص کاروبار میں مخصوص جگہو ں پر بھتہ دیا جاتا ہے۔ہمیں جاپان میں آج تک بھتہ دینے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی اور نا ہی بدنام زمانہ جاپانی مافیا نے ہم سے کبھی بھتہ مانگا۔
جاپان کی باوردی پولیس اگر کسی کام سے ہمارے گھر یا دفتر میں آتی ہے تو ہم اسے چائے پانی بھی نہیں دیتے اگر دیں بھی تو وہ سختی سے انکار کر دیتے ہیں۔سفید لباس والے آئیں تو بعض جو انہیں دیتے ان سے پی لیتے ہے اور میرے جیسے سے گالیاں پی لیتے ہیں۔
باوردی پولیس والے کو چائے پانی دینا رشوت تصور کیا جاتا ہے۔اور اس بات کا پولیس والوں کو احساس ہوتا ہے اور انہیں سختی سے اس کے متعلق یاد دہانی کروائی جاتی ہے۔ اگر جاپان کی پولیس اتنی سختی سے قوانین پر عمل نا کروائے تو جاپانی بھی ہم پاکستانیوں کی طرح پھڈے باز ہیں۔روزانہ کے حساب سے چھوٹی چھوٹی باتوں کو انا کا مسئلہ بنا کر پھڈے بازی اور زور دکھانے کے تماشے یہاں بھی دیکھنے کو ملیں۔
لیکن قانون کی حکمرانی کا یہ حال ہے۔کہ گراری والا پستول جس میں چھ گولیاں ڈلتی ہیں۔وہ بھی شاید وقت ضرورت ٹھس ہی کر جائے۔کمر سے لٹکائے ایک مخنچو سا پولیس والا نہایت اعتماد سے معاملات ڈھیل کرتا ہے۔اور معاملات کو سنبھالنے کیلئے ایک ہی کافی ہوتا ہے۔
اس پولیس والے کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے۔ اس کو کس نے پولیس میں بھرتی کر لیا۔!!۔ لیکن اگر اس پولیس والے کو ہاتھ لگا دیا جائے تو بغیر کسی راضی نامے کے اندر کر دیا جاتا ہے۔
اس مخنچی سے پلسیئے سے کوئی نہیں ڈرتا۔بے لچک قانون سے سب ڈرتے ہیں۔ سیاستدانو اور حکمرانو کو بھی علم ہوتا ہے کہ اس پلسیئے کے ہتھ چڑھ گئے تو وزیر اعظم صاحب نے اگر تھانے فون کیا تو وزیر اعظم صاحب کو فون کرنے کے جرم میں ہی اٹھا کر لے آئیں گے۔
اس مخنچو سے پولیس والے کو دیکھ کر ہم اپنے بٹوے نہیں چھپاتے بلکہ ہمیں غیر ملکی ہونے کے باوجود ایک تحفظ کا احساس ہوتا ہے۔۔اور اس پلیئسے کے ڈر سے غصہ برداشت کرنا پڑتا ہے اور مولا جٹ جیسی بڑکیں مارنے کے باوجود کسی کو ہاتھ لگانے سے ڈر لگتا ہے۔
پاکستان کی پولیس جب ایسی ہوگی تو امن امان ہوگا۔ نہیں تو ایسے ہی دما دم مست قلندر ہی ہوتا رہے گا۔
خدا کی طرف پیٹھ کرنے والے
مشرف تھا۔۔۔۔انتہائی گھٹیا شخص۔۔۔مشرف کے جانے کے بعد بھنگڑے ڈالے گئے لڈووں سے منہ میٹھے کئے جانے کی تصاویر اخبارات میں دیکھیں تھیں۔
واقعی کچھ ایسا محسوس ہوا تھا۔کہ شاید پاکستان کے حالات اب بدل جائیں۔
مشرف کے آنے کے بعد اسلام آباد ائیر پورٹ پر جب بغیر کسی بیستی کے میں پاکستان میں داخل ہوا تھا۔تو خوشی سے بھنگڑا ڈالا تھا اور نواز شریف کو خوب گالیاں دی تھیں۔نواز دور میں جب پاکستان گیا تھا تو ائیر پورٹ پر پیلا کاغذ دکھا کر کہا گیا کہ یہ انشورنس ہے اس کے بیس ڈالر ادا کرو۔ میں نےایک پیار بھرا لفظ اپنے سویٹ لپس سے ادا کرکے کے کہا تھا۔ بیوقوف ہی بنانا ہے تو بیس ڈالر میں ہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کو نا بیچ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دھرتی ماں ہوتی ہے۔
بس اس کے بعد کافی پٹائی ہوگئی تھی میری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چار پانچ تھے پورا گینگ ائیر پورٹ پر ہی۔۔ویسے اس کے بعد سے مجھے بھی عقل آگئی ۔پاکستان جاتے وقت شلوار قمیض پہننا چھوڑ دی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔او نا جی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کپڑے ضرور پہنتا ہوں۔
عظیم قوم کا قومی لباس۔۔۔۔۔۔ہیں جی
پی پی پی کی حکومت آئی سال بعد سب نے شور مچانا شروع کیا تو میرا خیال تھا۔شور کرنے والے سب پاگل ہیں۔انشاء اللہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ایسا سوچنا ہی پڑتا ہے جب انسان پر امید ہو۔اس وقت تو شاید پاکستان کی تاریخ کا سب سے برا حال ہے۔شاید اتنی بری حالت اکہتر میں بھی نہ ہوئی ہو گی۔اگر ایسی حالت تھی بھی تو شاید صرف بنگلہ دیش والوں کی تھی۔ہم نے اکہتر کی جنگ نا تو دیکھی اور نا ہی ہمیں حقیقت بتائی گئی۔
ہمیں تو کمزور جسم ، کالے کلوٹے ،چڑچڑی عادات کے مالک شخص کے متعلق طنزیہ انداز میں پتہ چلتا رہا کہ بنگالی ایسے ہوتے ہیں۔جب پاکستان سے باہر بنگالی سے ملے تو کوئی خاص فرق نا پایا۔اعلی نسل کے پاکستانی اور بنگالی میں۔
اس اعلی نسل کے پاکستانی کا نطفہ شاید اسپیشلی بھگوان نے جنت سے اوتارا ہوگا(غور کریں حجت پوری ہورہی ہے)۔اسی لئے سب پاکستانی اپنے آپ کو بھگوان کا اوتار سمجھتے ہیں۔ بھگوان کا اوتار نہ ہوتے صرف انسان ہی ہوتے تو شاید اس گھٹیا دھرتی پہ اچھے طریقے سےرہنا برداشت کر لیتے۔ لیکن بھگوان کا اوتار اور یہ چند روزہ گھٹیا دھرتی !!۔۔۔ہیں جی۔۔۔۔۔اس کی عوام اور اس کی حفاظت پاکستانی کیوں کرے۔۔۔۔۔ہیں جی
جب دل کرتا ہے آبادی کی کمی کیلئے امریکہ آسمانی امداد بھیج دیتا ہے اور پندرہ بیس کھڑکا دیتا ہے۔ڈرون نامی پرندہ ایجاد ہی کم بچے خوشحال گھرانے کے قانون کی حفاظت کیلئے کیا گیا ہے۔ بل گیٹس کا ایک ٹرسٹ ہے۔ جاپان کی این جی او کو رقم ادا کرے گا۔جو پاکستان میں تین کروڑ بیس لاکھ بچوں کو پولیو کے ٹیکے لگائیں گے۔ ۔۔۔۔ہیں جی!!۔
ٹیکے پاکستانیوں کو لگیں گے جاپانیوں کے ہاتھوں اور ادائیگی چاچا گیٹس کریں گے۔ ۔۔۔۔۔ہیں جی
واہ جی واہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔بل گیٹس کتنا انسانیت کا ہمدرد ہے۔یہ بھی بھگوان کا اوتار ہے۔ اسی ٹرسٹ کا ایک اور مشغلہ بھی ہے۔یعنی دنیا کی آبادی کو کنٹرول کرنا۔ ماحولی آلودگی اور دنیا کے غذائی مسائل وغیرہ حل کرنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔وغیرہ ۔۔۔۔۔وغیرہ۔
ایسے انسانی فلاحی کاموں پر نظر رکھنے کیلئے اعلی نسل کے پاکستانیوں کے پاس وقت نہیں ہے۔ انہیں فی الحال اپنے لئے جنت نظیر صوبے بنانے ہیں۔ کراچی میں کون فلاحی کاموں کیلئے ماہواری فنڈ وصولے گا اس کا فیصلہ بھی کرنا۔
ان سیاستدانوں اور حکمرانو سے جاہل مولوی ہی اچھا جو کم از کم پولیو کے ٹیکوں کو غیر شرعی کہہ کر کچھ تو اپنا حق ادا کر رہا ہے۔۔ٹیکہ تو غیر شرعی نہیں۔۔۔۔لگانے والا دھرم نشٹ کر جائے گا۔۔۔۔تالیاں ہی تالیاں۔۔۔۔ہائے ووئے۔۔۔۔۔تین کروڑ بیس لاکھ نا سہی ایک ڈیڑھ کروڑ ہی سہی۔۔۔۔۔۔۔ صوبے بنوانے ہیں ،اور اس کے بعد ہر شے اپنے نزدیک ہو جائے گی۔۔۔۔۔۔۔۔موجاں ہی موجاں۔ ایک صوبہ تالیوں والوں کیلئے ابھی سے بنا لیں۔۔۔بعد میں امریکہ نے بنوانا تو ہے ہی۔ حقوق ٹھمکیاں کے نام پر۔
پاکستان کے چوراہوں پہ میک اپ سے شٹی باڈی ٹائیٹ قسم کے بھیکاری اسی پولیو کے ٹیکے کا کرشمہ ہی تو نہیں؟ دیکھ لیں قطار اندر قطار گھوم رہے ہوتے ہیں۔ اب تو گھر آکر گھنٹی بجا کر بھی مانگتے ہیں۔
آجکل میں پرانے خصم سے جان چھڑا کر نیا خصم لایا جائے گا۔۔بھنگڑے تے مجرے۔۔۔۔بلے بلے
کوڑے ایتھے وی کوڑھے تے مکّے وی کوڑھے۔۔۔۔ہیں جی
الٹا سیدھا۔۔ایویں ایویں ہی
پہلے ہی کہاتھا یہ نحوست نا لو۔۔۔
ہمارے ہاں تو پیدا ہوا تھا اور ہم ابھی تک دمادم مست قلندر کا ناچ دھکتے کوئلوں پر چیختے ہوئے کر رہے ہیں۔
لونڈا مارا گیا پولیس کے ہاتھوں اور چار شہر جلنا شروع ہوگئے۔ساری تہذیب یافتہ قوم کا بھرم بیچ چوراہے دھواں دے رہا ہے۔
معاشی حالات کی تباہی کی ابتدائی سٹیج پر یہ حال ہے کالئے والو!!!!۔
آگے آگے دیکھو ہوتا ہے کیا!!!۔
دوسروں کے گھر جلانے والے اپنے گھر کو عموماً محفوظ ہی سمجھتے ہیں۔
کئی کہیں گے کہ وہ ہمارا گھر کب جلاتے ہیں۔؟ ۔تو عرض ہے ان کے پالے ہوئے کالے کتے کی وڈیو نہیں دیکھی جس میں کہہ رہا ہے ایک اشارہ کردووووووووووووووووووووووووووووووووووووں نا!!۔
ہاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دما دم مست قلندر ہوگی۔۔۔ہیں جی۔
ان کی تہذیب ان کی ترقی سب پیسے پر ہے کالئے ۔۔۔۔۔
امریکہ فلاحی ریاست نہیں ہے۔دیوالیہ نکل بھی گیا تو اسے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔بلکہ جب فائدہ دیکھے گا تو دیوالیہ نکال دے گا۔ملکہ الزابیتھ صاحبہ کے جھنڈے تلے پلنے والے ملک فلاحی ملک ہیں۔۔خیرات ملتی ہے نکموں کو۔۔۔۔۔بچوں کو سکول میں پڑھائی مفت میں ملتی ہے۔کالج یونیورسٹی کیلئے قرضہ ملتا ہے اہلیت کی بنیاد پر۔۔۔پھر معاشرے کا غلام ہوکر ساری زندگی تعلیمی قرض اتارتے رہو۔
جب اتر جائے تو گھر کا لون ادا کرنے کیلئے کام کرو۔جب ریٹائیر منٹ کا وقت آئے تو باقی ماندہ دن بستر پر یا پھر بڈھا گھر میں گذارو۔۔۔۔
یہ نہیں کر سکتے تو خیراتی پیسہ سے پینا پلانا کرو اور کسی گلی میں لڑھک جاو۔کھانا تو امریکہ کے سوپ کچن میں بھی مل جاتا ہے۔ہمارے داتا دربار کی طرح۔
بے شک افلاس برائیوں کی ماں ہے۔جہاں افلاس ہو گا وہاں اس معاشرے کے اثاثے بھی بے قدر ہو جاتے ہیں۔ہمیں اس سے غرض نہیں کہ ہمارا حال کیا ہے ہمیں اس سے غرض ہے مستقبل کیا ہو گا۔
ان کا مستقبل کیا ہو گا؟۔۔۔۔خوشحالی تو رفتہ رفتہ زوال پذیر ہے۔یہی حال آٹھ دس سال مزید رہا تو سب سامنے آجائے گا۔
لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ولائتی انڈے تیرا کیا ہو گا اس وقت؟؟؟؟؟۔۔۔۔۔کالئے دیس دیس ہوتا ہے۔۔چاہے گندگی کا ڈھیر ہی کیوں نا ہو!!۔
پیٹ پوجا کیلئے مل رہا ہے اور ملتا رہے گا۔
چند فیصد خوشحال گھرانوں کے پاکستان کو مستقبل کا پاکستان دیکھنا ہے تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اہل مغرب کی فحاشی اختیار کر لو۔اگر یک دم اس قوم کوخوشحالی مل گئی تو مستقبل کیا ہو گا؟
انڈین فلموں سے درآمد کیا ہوا؟
ہالی وڈ بالی وڈ نما خوشحال مستقبل؟
اللہ کے کاموں میں بے شک حکمت ہوتی ہے۔وہ جسے چاھے نواز دے اور جسے چاھے اسے اس کی حدود میں رکھے۔
جو ہے جیسا ہے الحمد اللہ جو اللہ کی مرضی ہم اسی میں خوش ہیں۔
ہاں جہدوجد اس انسان کیلئے ضروری ہے۔تن آسانی مردے کو ہی زیب دیتی ہے۔۔۔۔سفید لباس میں۔۔۔۔
ہم جو بدیس سدھارے ولائتی انڈے جب پاکستان جاتے ہیں تو ہمیں کلچر شاک لگتا ہے وجہ کوئی خاص نہیں ہم ولائت کی چکاچوند میں اپنی بینائی کھو دیتے ہیں۔
ہمیں ہر بات میں پاکستانیوں کی جہالت نظر آتی ہے۔ظاہر ہے جس دیس کے لوگ اتنے جاہل ہوں گے اس دیس کے جانور بھی جاہل ہوتے ہیں۔
ایک بار میں پانچ سال پاکستان نا جا سکا۔پانچ سال بعد جب پاکستان گیا تو ہر شے میں مجھے جہالت نظر آتی تھی۔
ایک دن تو میری حیرت سے بری حالت ہوگئی کہ میں نے دیکھا کہ ایک دیوار پر بھینس کے اوپلے لگے ہوئے ہیں۔میں حیران و پریشان کھڑا اس حیرت انگیز معاجرے کو دیکھا رہا تھا۔اور بھینس کی جہالت پر افسوس کرتا رہا کہ کیسی جاہل بھینس ہے کہ اسے اور کوئی جگہ نا ملی کہ اس نے اس دیوار کو گندھا کر دیا!!!!۔
اس کے بعد مجھے بھینس سے سخت نفرت ہو گئی ۔مجبوری ہے اس کا دودھ تو پی لیتا ہوں۔یہ مجبوری نا ہو تو ایسے جاہل جانور کو ذبح کرکے مزیدار کباب بنا کر کھا جاوں!!۔
۔جاپان کی بھینسیں تو باڑے میں ہی حوائج ضروریہ سے فارغ ہوتی ہیں۔!!
آپ تو پاکستان میں بستے ہیں دیہی علاقوں میں بھینس کے ایسے کرتوت دیکھتے ہی رہتے ہوں گے!!۔۔۔۔۔۔۔۔جاہل بے عقل جانور۔